لفٹ بند ہونے کے معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کی لفٹ بند ہونے کے معاملے پر اہم پیشرفت ہوئی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا۔ رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈی جی پاکستان پبلک ورکس کو انکوائری کا حکم دیا،جبکہ لفٹ بند ہونے کے معاملے پر دو روز میں رپورٹ طلب کر لی رجسٹرار ہائیکورٹ کے مطابق آئندہ کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے ماہر ٹیم تعینات کریں۔ رجسٹرار نے ہدایت کی کہ ہائیکورٹ کی تمام لفٹ چیک کی جائیں اور اگر کوئی مسئلہ ہو تو ٹھیک کریں۔ یاد رہے کہ جمعے کو سنیر قانون دان لطیف کھوسہ سمیت پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم میں شامل دیگر وکلاء اسلام آباد ہائیکورٹ کی لفٹ بند ہونے سے پھنس گئے تھے،معاون وکیل سوزین جہاں نے لفٹ کے باہر احتجاج کیا اور بتایا کہ عمران خان کو تو اندر بند رکھا اب وکلاء کو بھی بند کردیا گیا 20 لوگ لطیف کھوسہ کے ساتھ ہیں اور اندر پنکھا بھی موجود نہیں۔ واقعہ کے بعد تقریباََ ایک گھنٹے کے بعد ریسکیو ٹیم جائے وقوع پر پہنچی اور وکلاء کو لفٹ سے باہر نکالا۔ سنیئر قانون دان لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگو میں الزام عائد کیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی لفٹ میں مجھے،نعیم حیدر پنجوتھہ اور دیگر وکلاء کو مارنے کی کوشش کی گئی، میں اگر مر بھی جاتا تو یہ کالا کوٹ زندہ رہتا، ہمیں قانون کی بالادستی چاہیئے، جس کے لیے ہمیں عدلیہ کو آزاد اور خود مختار کرنا ہو گا لطیف کھوسہ نے کہا کہ جو تکلیف ہم نے ایک گھنٹہ لفٹ میں بند ہونے کے دوران جو تکلیف سہی وہ تکلیف پاکستان کی عوام پچھلے 16 مہینوں سے برداشت کر رہی ہے۔ یہ غلط فہمی میں ہیں کہ یہ اس طرح وکلاء کو ڈرا لیں گے،ہمیں ملک کی عظمت اور آئین کی بحالی اور قانون کی بالادستی سے چاہیے۔