مکہ مکرمہ پیدل پہنچ کر حج کرنیوالا پاکستانی سعودی حکومت کا معترف

پاکستان : سے پیدل مکہ مکرمہ پہنچ کر حج کرنے والے پاکستانی شہری نے معمول سے ہٹ کر خصوصی مدد فراہم کرنے پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا ہے۔ عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سفر کے شوقین پاکستانی طالبِ علم 25 سالہ عثمان ارشد نے بتایا کہ میں حج شروع ہونے سے کافی پہلے ہی عمرہ کے ویزے پر سعودی عرب داخل ہوا اور جب تین ماہ کے عمرہ ویزے کی میعاد ختم ہونے کے قریب پہنچی تو مطلوبہ فیس ادا کرکے حج ویزہ حاصل کیا اور پاکستانی حج مشن و سعودی حکام کی مدد سے مملکت میں دوبارہ داخل ہوا، جس کے لیے پاکستانی حج مشن کے تعاون سے سعودی عرب میں رہتے ہوئے آن لائن حج ویزہ حاصل کیا، اس کے لیے میں نے وہی حج واجبات ادا کیے جو دوسرے پاکستانی عازمین نے ادا کیے تھے مملکت میں دوبارہ داخل ہونے کی اجازت دینے پر سعودی حکومت کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت نے اس تمام عمل میں قابلِ ذکر مدد فراہم کی کیوں کہ میں نے سعودی بحرین بارڈر کا سفر کیا جہاں سے میں نے اپنے عمرہ ویزہ سے خروج کیا اور حج ویزہ کے ذریعے مملکت میں دوبارہ داخل ہوا، تاہم سرحد عبور کرنے والے مسافروں کو دوبارہ داخلے کے لیے بحرین کا ویزہ حاصل کرنے کی جو حسبِ معمول ضرورت ہوتی ہے، اس کے برعکس مجھے سرحد کے سعودی جانب رہنے کی خصوصی اجازت دی گئی پاکستانی طالب علم نے بتایا کہ عام طور پر اس عمل میں یہ شرط ہوتی ہے کہ پاکستانی عازمین کے لیے حج کا عمل پاکستان سے ہی کیا جاتا ہے لیکن سعودی حکام نے رسمی کارروائیوں کا انتظام کرکے آن لائن حج ویزا بھیج کر اس منفرد صورتحال میں میری مدد کی، حج کے دوران ہوٹل سمیت مجھے فراہم کردہ رہائش غیر معمولی معیار کی تھی اور دیگر تمام انتظامات بھی شاندار تھے حج انتظامات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت کے مختلف اقدامات سے عازمینِ حج کو بہت مدد ملی، ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور ان کے سفر کے تجربے کو ہموار کیا، سیکورٹی عملہ شدید گرمی کے دوران زائرین پر ٹھنڈے پانی کا چھڑکاؤ کرتا تھا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ سخت موسم میں ٹھنڈے رہیں جب کہ ٹرانسپورٹ اور رہائش بھی اعلیٰ درجے کی تھی یاد رہے کہ پاکستانی طالب علم عثمان ارشد نے اکتوبر 2022ء میں کندھوں پر ایک چھوٹا سا بیگ، ہاتھ میں چھتری اور پیروں میں ٹریکنگ جوتوں کے ایک جوڑے کے ساتھ اپنے آبائی شہر اوکاڑہ سے اپنے پیدل سفر کا آغاز کیا، اس دوران انہوں نے 4 ماہ کی مدت میں 5 ہزار 400 کلومیٹر کا فاسلہ طے کیا اور پاکستان، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے ہوتے ہوئے مارچ 2023ء میں فریضۂ حج ادا کرنے کے لیے مکہ مکرمہ پہنچے، پاکستانی طالب علم نے یوٹیوب پر مختلف بلاگز کے ذریعے اوکاڑہ سے مکہ مکرمہ تک اپنے سفر کو دستاویزی شکل میں محفوظ کیا۔