تہران: آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز اس وقت زیر غور ہے، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجویز خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم ہے۔ عراقچی نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں اس بات پر زور دیا کہ اس تجویز پر بات چیت جاری ہے اور اس کے ممکنہ اثرات پر غور کیا جا رہا ہے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ پاکستان اور قطر کی جانب سے ثالثی کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے ان ممالک کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ممالک خطے میں امن کے قیام کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ عالمی تجارت کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔
ایران کی یہ تجویز اس وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عراقچی نے کہا کہ ایران ہمیشہ سے امن اور مذاکرات کے حق میں رہا ہے اور وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ بات چیت ہی مسائل کا حل ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دیگر ممالک بھی اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔
آبنائے ہرمز کی کھلنے کی صورت میں نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ عراقچی نے کہا کہ اس اقدام سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں استحکام بھی ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران ہمیشہ سے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں رہا ہے اور وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ باہمی تعاون ہی ترقی کی راہ ہموار کرتا ہے۔