اسلام آباد: تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، ہارموز میں ٹینکر حملے کے بعد عالمی مارکیٹ میں 2% سے زیادہ کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ حملہ عالمی توانائی کی فراہمی میں ممکنہ خلل کے خدشات کو بڑھاتا ہے، جس کی وجہ سے تاجر مزید کشیدگی کے امکانات کے بارے میں محتاط ہیں۔
جمعہ کے روز، عالمی تیل کی قیمتیں اپریل کے آخر کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2% سے زیادہ کا اضافہ ہوا، جو کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی طلب اور رسد کے توازن پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ہارموز کی خلیج میں ایک ٹینکر پر حملہ ہوا، جس نے عالمی توانائی کی منڈی میں بے چینی پیدا کر دی۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے ساتھ تنازعہ میں مزید شدت کے امکانات نے بھی تاجروں کی تشویش کو بڑھا دیا ہے۔ اس حملے کے بعد، تیل کی قیمتوں میں اضافے کا یہ سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جو کہ عالمی معیشت کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، تیل کی قیمتوں میں اس اضافے کا اثر دیگر مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے، جس سے عوامی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔