لاہور میں لوڈشیڈنگ کا بدترین بحران

صوبائی دارالحکومت میں بجلی کے شدید بحران کے باعث لاہور میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ کر چھ سے آٹھ گھنٹے تک پہنچ گیا ہے ، جس کی وجہ سے شہریوں کی روزمرہ زندگی شدید اذیت اور مشکلات کا شکار ہو گئی ہے۔ لیسکو ریجن میں طلب اور رسد کے درمیان وسیع خلیج پیدا ہونے کے بعد مختلف علاقوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ بندش کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہےذرائع کے مطابق لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی یعنی لیسکو کے نظام میں بجلی کا شارٹ فال غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کی جانب سے لیسکو کو طلب کے مقابلے میں انتہائی کم بجلی فراہم کی جا رہی ہے ، جس کے نتیجے میں گنجان آباد شہری اور مضافاتی علاقوں میں طویل پاور بریک ڈاؤنز معمول بن چکے ہیںلیسکو کے فیلڈ آپریشنز سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کو بجلی کی ترسیل برقرار رکھنے کے چیلنج کی وجہ سے رہائشی فیڈرز پر لوڈ مینجمنٹ کا دباؤ بڑھا دیا گیا ہے۔ صوبائی دارالحکومت کے مختلف رہائشی علاقوں میں چار سے چھ گھنٹے کی اعلانیہ جبکہ دو سے تین گھنٹے کی غیر اعلانیہ بندش کی جا رہی ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ لاہور میں لوڈشیڈنگ کے اس شدید سلسلے نے ناصرف گھریلو معمولات بلکہ تجارتی سرگرمیوں کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ بازاروں ، مارکیٹوں اور چھوٹے صنعتی یونٹس میں بجلی نہ ہونے کے سبب تاجر برادری کو بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مسلسل بندش کے نتیجے میں پینے کے صاف پانی کی قلت بھی پیدا ہو چکی ہے۔جصارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بجلی کی بندش کے ساتھ ساتھ کم وولٹیج اور بار بار ٹرپنگ کی وجہ سے الیکٹرانکس مصنوعات اور قیمتی گھریلو اشیاء جلنے کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ شہریوں نے بجلی کے بھاری بلوں کی ادائیگی کے باوجود ایسی بدترین بندش پر پاور ڈویژن اور لیسکو انتظامیہ کے خلاف سخت مایوسی اور غصے کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب لیسکو ترجمان کا مؤقف ہے کہ سسٹم پر اوورلوڈنگ اور پاور جنریشن کمپنیوں کی جانب سے بجلی کی ترسیل میں کمی کے باعث لوڈ مینجمنٹ مجبوری بن چکی ہے۔ ترجمان کے مطابق لیسکو انتظامیہ نیشنل گرڈ سے اضافی بجلی حاصل کرنے کے لیے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ صورتحال کو کنٹرول کیا جا سکے۔توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ترسیلی نظام میں طویل مدتی تکنیکی اصلاحات اور پیداواری وسائل میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے یہ بحران بار بار جنم لیتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر متبادل توانائی ذرائع کو ترجیحی بنیادوں پر نیشنل گرڈ میں شامل نہ کیا گیا تو لاہور میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ آنے والے دنوں میں مزید بڑھ سکتا ہے۔شہریوں اور تاجر تنظیموں نے وفاقی حکومت اور نگران حکام سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے تاکہ معیشت اور عوامی زندگی کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے اور ریلیف فراہم کرنے کے ٹھوس اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔