سکھر: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کا دورۂ چین کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دورے کے دوران 15 مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے جائیں گے۔ یہ معاہدے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے اہمیت رکھتے ہیں، جن میں تھر کول، الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشنز اور الیکٹرک موٹرسائیکلوں کی مقامی تیاری شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ وہ اس دورے کے دوران اہم چینی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے اور دنیا کے سب سے بڑے ‘تھری گورجز ڈیم’، مصنوعی ذہانت (AI) کی لیبارٹری اور شنگھائی شہر کا بھی دورہ کریں گے۔ ان معاہدوں پر نجی شعبے کے تعاون سے بھی کام کیا جائے گا، جس سے سندھ کی معیشت میں بہتری آئے گی۔
سید مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاک چین تاریخی دوستی کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی، جبکہ سی پیک (CPEC) منصوبے کی شروعات صدر آصف علی زرداری نے کی۔ انہوں نے بجلی کی پیداوار کے حوالے سے بتایا کہ اس وقت ملک میں سب سے سستی بجلی تھر کے کوئلے سے پیدا ہو رہی ہے، جو کہ معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
اگلے ماہ سکھر-حیدرآباد موٹروے پر کام شروع ہونے کا امکان ہے، جس سے صوبے کی ترقی میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ذمہ داریوں میں ریلوے اور قومی شاہراہوں کی تعمیر شامل ہے، اور اب وفاق کے ساتھ صوبے کے تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مقامی حکومتوں کے حوالے سے بھی بات کی اور بتایا کہ سندھ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو بجٹ فراہم کر دیا ہے، جس کے بعد ان کے حساب کتاب (آڈٹ) کی باقاعدہ جانچ پڑتال شروع کی جا رہی ہے۔
فوڈ سیکیورٹی کے حوالے سے وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے کے پاس گندم کا وافر ذخیرہ موجود ہے، جس سے قیمتوں کو قابو میں رکھا جائے گا۔ انہوں نے کسانوں کو ‘ہاری کارڈ’ کے ذریعے سبسڈی فراہم کرنے کا بھی ذکر کیا۔
خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج سے متعلق سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی غیر آئینی اقدام کی مخالفت کی جائے گی۔ ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سیاسی بحرانوں کا پرامن حل نکلنا چاہیے، خواہ اس کے لیے مولانا فضل الرحمان یا کوئی اور کردار ادا کرے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو سنجیدگی سے سوچنے کا مشورہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ دہشت گردی اور سیاسی کشیدگی ملک کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔