اسلام آباد / تل ابیب:مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیلی فوج کے سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائر گولان نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو نشانہ بنانا اسرائیل کی تاریخ کی سنگین اور ناقابلِ تلافی غلطی ہوگی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ جنگی جنون اور جذباتی فیصلے ریاست کو پائیدار سلامتی دینے کے بجائے مزید سنگین بحرانوں میں دھکیل دیتے ہیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں یائر گولان نے نیتن یاہو حکومت کی جنگی حکمتِ عملی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خطے میں تنازع کے دائرہ کار کو پھیلانا خود اسرائیل کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حریف قیادت کے خاتمے کی پالیسی کبھی مسائل حل نہیں کر سکتی بلکہ اس کے نتیجے میں عوامی اشتعال اور مزاحمت جنم لیتی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے خلاف کسی بھی قسم کی مہم جوئی پورے خطے کو ایک بے قابو اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں لے آئے گی، جس سے دیگر ممالک بھی متاثر ہوں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ تل ابیب کو اپنے دفاعی اہداف کے حصول کے لیے جارحانہ اور غیر محتاط اقدامات کے بجائے سفارتی ذرائع اور بین الاقوامی تعاون پر انحصار کرنا چاہیے۔ ماضی کے تلخ تجربات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ایسے فیصلوں سے گریز کیا جائے جن کے نتائج ملک و قوم کے لیے تباہ کن ثابت ہوں۔
دفاعی اور سیاسی مبصرین کے مطابق، سابق اعلیٰ عسکری قیادت کی جانب سے سامنے آنے والا یہ بیان اسرائیلی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ سیاسی قیادت کے درمیان بڑھتے ہوئے نظریاتی خلیج کی واضح دلیل ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سینئر عسکری حلقے تہران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کے خطرناک اثرات سے بخوبی آگاہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی تدبر اختیار کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔