امریکا میں تعلیمی بحران: 95 فیصد طلبہ اسائنمنٹس کے لیے اے آئی کا سہارا لینے لگے، سروے رپورٹ

نیویارک / واشنگٹن:امریکا کے تعلیمی شعبے میں جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے غیر محتاط استعمال نے ایک نیا بحران کھڑا کر دیا ہے، جہاں ایک حالیہ جائزے کے مطابق قریباً 95 فیصد طلبہ اپنے تعلیمی ہوم ورک اور اسائنمنٹس تیار کروانے کے لیے چیٹ بوٹس کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس صورتحال نے تعلیمی شفافیت اور امتحانی معیار پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ اسائنمنٹس تیار کرنے کے لیے اے آئی ٹولز پر اندھا دھند انحصار طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں، تنقیدی سوچ (Critical Thinking) اور سیکھنے کے بنیادی عمل کو بری طرح متاثر کر رہا ہے، جس کے دور رس منفی اثرات ان کی آئندہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر پڑ سکتے ہیں۔
اس رجحان کے بعد امریکی اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو اپنے امتحانی و تدریسی طریقہ کار پر نظرثانی کرنا پڑ رہی ہے۔ بیشتر ادارے تعلیمی سرقے (Plagiarism) کی روک تھام کے لیے سخت اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ زبانی امتحانات اور کلاس روم میں براہِ راست اسائنمنٹس کی پالیسی پر زور دے رہے ہیں، تاکہ ٹیکنالوجی کے منفی استعمال کو روک کر نظامِ تعلیم کی ساکھ کو برقرار رکھا جا سکے۔