ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار اور حقیقی سلامتی کبھی بھی باہر سے مسلط نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی فوجی مداخلت کے ذریعے خطے میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ انڈونیشیا میں منعقدہ گلوبل ڈائیلاگ فورم (گلوبل ٹاؤن ہال 2026ء سے ہفتے کے روز آن لا آئين خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ خطے کے مسائل کا حل بیرونی طاقتوں کی مداخلت میں نہیں بلکہ علاقائی ممالک کے باہمی تعاون اور خودمختاری کے احترام میں مضمر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہائیوں پر محیط غیر ملکی مداخلتوں نے مشرق وسطیٰ کو صرف عدم استحکام، جنگ اور تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق اپنے خطاب میں عباس عراقچی نے خطے کے دیرینہ بحرانوں کا احاطہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی سلامتی کا انحصار مقامی شراکت داروں پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے کے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے روایتی اور ناکام طریقوں سے گریز کرے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ بالخصوص غزہ اور لبنان کی صورتحال کے تناظر میں بین الاقوامی سفارتی سطح پر شدید ہلچل پائی جاتی ہے اور جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔
تہران انہوں نے مزید کہا کہ تہران ہمیشہ سے خطے میں امن، استحکام اور پرامن بقائے باہمی کا حامی رہا ہے، تاہم جارحانہ عزائم اور بیرونی طاقتوں کی مبینہ اجارہ داری نے امن کے قیام کی راہ میں ہمیشہ بڑی رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ عالمی رہنماؤں اور پالیسی سازوں سے مخاطب ہوتے ہوئے عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ جب تک مشرق وسطیٰj کے عوام کے بنیادی حقوق اور خودمختاری کا احترام نہیں کیا جاتا، اس وقت تک خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ فورم کے شرکاء نے ان کے اس دو ٹوک مؤقف کو انتہائی غور سے سنا اور موجودہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں اس کی اہمیت کو سراہا۔