اسٹیٹ بینک کی 10 روپے کے کرنسی نوٹوں کی تبدیلی سے متعلق افواہوں کی سخت تردید

کراچی:اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور مختلف غیر مصدقہ ذرائع سے 10 روپے کے کرنسی نوٹوں کو تبدیل کرانے کی آخری تاریخ کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی شدید الفاظ میں تردید کی ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے میں ان تمام خبروں کو من گھڑت اور حقائق کے بالکل منافی قرار دیا گیا ہے۔ ترجمان اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ حکومتِ پاکستان یا مرکزی بینک کی جانب سے 10 روپے کے کاغذی نوٹوں کو منسوخ کرنے یا ان کے تبادلے کے لیے کسی قسم کی حتمی تاریخ کا کوئی تعین نہیں کیا گیا اور اس سے متعلق پھیلائی جانے والی تمام اطلاعات محض سنسنی خیز افواہیں ہیں۔

ترجمان اسٹیٹ بینک نے عوام الناس سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا اور دیگر غیر تصدیق شدہ پلیٹ فارمز پر پھیلنے والی گمراہ کن معلومات پر ہرگز کان نہ دھریں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ 10 روپے کے تمام کاغذی نوٹ مکمل قانونی حیثیت رکھتے ہیں اور ملک بھر کے تمام تجارتی و مالیاتی امور اور روزمرہ خرید و فروخت کے لیے حسبِ سابق قابلِ قبول ہیں۔ مرکزی بینک نے وضاحت کی کہ جب بھی کسی بھی مالیت کے کرنسی نوٹوں کی منسوخی یا تبدیلی کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کا باقاعدہ اور رسمی اعلان قومی ذرائع ابلاغ اور بینک کی ویب سائٹ کے ذریعے قبل از وقت عوام تک پہنچایا جاتا ہے۔

معاشی ماہرین اور ذرائع کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے ڈیجیٹل میڈیا پر یہ افواہ زور پکڑ رہی تھی کہ 10 روپے کے نوٹ جلد نا قابلِ استعمال ہو جائیں گے، جس کے باعث عوام اور تاجر برادری میں شدید تشویش اور بے یقینی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اسٹیٹ بینک کی اس بروقت اور مفصل وضاحت کے بعد مارکیٹ میں پائی جانے والی تمام غلط فہمیاں دور ہو گئی ہیں۔ مرکزی بینک نے کاروباری طبقے اور عام شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ 10 روپے کے نوٹ کی لین دین بلا خوف و خطر جاری رکھیں اور اگر کوئی شخص یا تاجر اس قانونی نوٹ کو لینے سے انکار کرے تو اس کی شکایت فوری طور پر انتظامیہ کو کی جائے کیونکہ قانونی ٹینڈر کو قبول نہ کرنا قانوناً جرم ہے۔

بینک حکام کے مطابق زرمبادلہ اور ملک کے مالیاتی نظام کو منظم رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ملک بھر کی تمام تجارتی بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عوام کی سہولت کے لیے کرنسی کی فراہمی اور خدمات کا سلسلٰہ بلا تعطل جاری رکھیں۔ اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ عوام میں بے چینی اور معاشی معاملات میں خلل ڈالنے والی افواہیں پھیلانے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے بھی متعلقہ سائبر کرائم کے اداروں سے رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی افواہ سازی کی روک تھام کی جا سکے۔