مشرق وسطیٰ کی کشیدگی، خام تیل کی قیمت 108 ڈالرز سے تجاوز کر گئی

دبئی:مشرق وسطیٰ میں روز بروز بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے اثرات اب عالمی معیشت پر براہ راست ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ تیل کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستوں اور پیداواری مراکز کے قریب سکیورٹی خدات کے پیش نظر سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جس کے باعث توانائی کے بحران کا خدشہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات کے مطابق، خطے میں جاری اس کشیدگی نے عالمی سطح پر سپلائی چین کو شدید متاثر کیا ہے، اور اگر صورتحال جلد کنٹرول میں نہ آئی تو معاشی اشاریے مزید تنزلی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

عالمی منڈی سے موصول ہونے والی تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق، خام تیل کی قیمت میں نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے جہاں فی بیرل نرخ میں 1 ڈالر اور 5 سینٹس کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 1 فیصد بڑھ کر 108 ڈالرز اور 68 سینٹس کی سطح پر جا پہنچی ہے جو حالیہ مہینوں میں بلند ترین سطح شمار کی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اس ناگہانی تیزی کی بڑی وجہ خطے میں ممکنہ رسد کی بندش کا خوف ہے، جس کی وجہ سے خریداروں کی جانب سے طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اور مارکیٹ میں ہیجان انگیز کیفیت پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب، امریکی منڈی میں بھی ویسٹ ٹیکساس کے نرخوں میں زبردست تیزی کا رجحان برقرار ہے اور قیمتیں مسلسل اوپر کی طرف گامزن ہیں۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا یہ تسلسل دنیا بھر میں مہنگائی کے ایک نئے طوفان کو جنم دے سکتا ہے، جس سے پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر ممالک میں پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے نرخ آسمان سے باتیں کرنے لگیں گے۔ تجارتی و صنعتی اداروں نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر متبادل توانائی کے ذرائع اور ہنگامی حکمت عملی پر غور کیا جائے تاکہ عوام کو معاشی بدحالی سے بچایا جا سکے