امریکا میں ایچ ون بی ویزا ہولڈرز کیلئے نئی مشکلات کا خدشہ

واشنگٹن:امریکا میں مقیم غیر ملکی ہنرمندوں اور بالخصوص ایچ ون بی (H-1B) ویزا ہولڈرز کیلئے ایک انتہائی تشویشناک خبر سامنے آئی ہے جہاں نئی انتظامیہ کی جانب سے روزگار سے محرومی کی صورت میں ملنے والی 60 دن کی مہلت یعنی گریس پیریڈ کو ختم کرنے کی تجویز پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔ اس اہم ترین پالیسی تبدیلی سے ہزاروں پروفیشنلز براہ راست متاثر ہوں گے۔
جمعرات کے روز جاری ہونے والے ایک سرکاری نوٹس کے مطابق، تارکین وطن سے متعلق قوانین میں بڑی تبدیلیوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ موجودہ ضوابط کے تحت ملازمت چھوٹ جانے کی صورت میں ویزا ہولڈرز کو ساٹھ دن کا وقت ملتا تھا تاکہ وہ نئی ملازمت تلاش کر سکیں یا قانونی طور پر اپنا اسٹیٹس تبدیل کروائیں۔ اس گریس پیریڈ کے خاتمے سے تارکین وطن کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔
اس امریکی فیصلے کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر کے ان نوجوان آئی ٹی ماہرین اور پروفیشنلز پر بھی پڑیں گے جو اس ویزا کے تحت امریکا میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے تارکین وطن میں شدید نوعیت کی غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گی اور انہیں ملازمت کے دوران انتہائی کڑے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔