آبنائے ہرمز کے قریب تیل کا پھیلاؤ، بین الاقوامی اداروں کی تشویش

اسلام آباد:بین الاقوامی خلائی مشاہداتی اداروں اور یورپی یونین کے کوپرنیکس پروگرام کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سیٹلائٹ شواہد نے آبنائے ہرمز کے قریب سمندر میں تیل کے خطرناک پھیلاؤ کی تصدیق کر دی ہے۔ اس سمندری آلودگی کے نتیجے میں خطے کی سمندری حیات اور ماحولیاتی توازن کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں، جس پر ماہر ماحولیات نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پورٹ قاسم اور میری ٹائم سکیورٹی کے ماہرین کے مطابق، تیل کا یہ پھیلاؤ نہ صرف مقامی ماحولیات کے لیے تباہ کن ہے بلکہ اس سے بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز تیل کی سپلائی کے حوالے سے دنیا کی اہم ترین گزرگاہ ہے، جہاں اس طرح کے حادثات عالمی توانائی کی مارکیٹ کو غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔
ماہرینِ اقتصادیات اور توانائی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس تیل کے پھیلاؤ پر فوری قابو نہ پایا گیا تو پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو بھی ایندھن کی سپلائی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ متعلقہ بین الاقوامی اداروں نے اس صورتحال پر فوری نوٹس لیتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر صفائی کی مہم شروع کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔