نیروبی:افریقی ملک کینیا میں کاروبار کرنے والی معروف انڈین ملٹی نیشنل کمپنی ٹاٹا گروپ کا سوڈا ایش کی کان کنی اور پیداوار کا تاریخی منصوبہ اس وقت انتہائی شدید بحران اور تنازع کی زد میں آ گیا ہے، جب کینیا کے صدر ولیم روٹو نے باضابطہ طور پر کمپنی کو فوری طور پر ملک چھوڑ جانے کا حکم کر دیا ۔ اس ڈرامائی اور غیر متوقع حکومتی اقدام نے افریقی براعظم میں ٹاٹا گروپ کے سب سے قدیم اور مستحکم تجارتی سخت غیر یقینی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے، جس کے اثرات بین الاقوامی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
باخبر ذرائع اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تنازع کا باقاعدہ آغاز رواں برس کے وسط میں ہوا تھا، تاہم گذشتہ ہفتے اس معاملے نے اس وقت عالمی میڈیا اور معاشی حلقوں کی توجہ حاصل کی جب کینیا کے صدر نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی سخت الفاظ میں انڈین کمپنی کو ہدفِ تنقید بنایا اور اس کی جگہ نئے اور بہتر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو لانے کا دوٹوک اعلان کیا۔ صدر ولیم روٹو نے اپنے عوامی خطاب میں دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ انہوں نے ٹاٹا کیمیکلز کو اپنا بوریا بستر گول کر کے کینیا سے چلے جانے کا حتمی حکم دے دیا ہے۔
کینیا کے صدر کے اس سخت گیر فیصلے کے بعد لیک ماگاڈی کے تاریخی خطے میں سوڈا ایش کی کان کنی کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ کینیا کی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ اب روایتی اور پرانے معاہدوں سے ہٹ کر ایسے جدید سرمایہ کاروں کا انتخاب کرے گی جو مقامی معیشت کے لیے زیادہ سودمند ثابت ہوں۔ اے ڈی این نیوز کے مطابق اس سفارتی و معاشی پیش رفت کو افریقہ میں انڈین تجارتی اثر و رسوخ کے تناظر میں ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، اور ماہرین اس امر کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ٹاٹا گروپ اس فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا راستہ اختیار کرے گا یا نہیں۔