مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر ماہرین کی تشویش میں اضافہ

اسلام آباد: مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ بانی اور نوبل انعام یافتہ ماہر جیفری ہنٹن نے معروف محقق جیکب کاکسن کے انتباہات کی بھرپور تائید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی یہ تیز رفتار ترقی انسانیت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں جیفر ہنٹن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اے آئی سسٹمز کی جانب سے انسانی کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ اب محض سائنس فکشن نہیں بلکہ ایک حقیقی خطرہ ہے۔
ڈیجیٹل ماہرین اور محققین کا کہنا ہے کہ جیفری ہنٹن کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اے آئی ماڈلز کی تربیت اور تیاری کے لیے بے پناہ وسائل جھونکے جا رہے ہیں۔ جیکب کاکسن نے اپنے حالیہ بیانات میں جس طرح خود مختار ہتھیاروں اور معاشرتی انتشار کے خدشات کا اظہار کیا تھا، ہنٹن نے ان تمام نکات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر فوری ضابطہ اخلاق اور سخت قوانین نافذ کرنے پر زور دیا ہے۔
پاکستان کے سائنسی اور تعلیمی حلقوں میں بھی اس بحث پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کے معیشت اور طب سمیت مختلف شعبوں میں بے شمار فوائد ہیں، لیکن اس کے اخلاقی پہلوؤں اور حفاظتی اقدامات کو نظرانداز کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ جیفری ہنٹن کے انتباہات کے بعد اب عالمی اداروں اور حکومتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اے آئی کی ترقی کے لیے ایک شفاف اور محفوظ فریم ورک تیار کریں تاکہ انسانیت کو کسی بھی ممکنہ تباہی سے بچایا جا سکے