پشاور:
خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے حوالے سے چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں نامزد اور زیر حراست چاروں ملزمان کو نامعلوم موٹرسائیکل سوار حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ اس واقعے نے سکیورٹی کے موثر انتظامات پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں، اور پولیس کے اعلیٰ حکام اس سکیورٹی معاملات پر شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ واقعہ کے فوری بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنے کا آغاز کر دیا۔
ابتدائی پولیس رپورٹس اور عینی شاہدین کے مطابق، پولیس کی تحویل میں موجود ملزمان کو تفتیش اور شناخت پریڈ کے لیے ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جارہا تھا کہ اس دوران پہلے سے تاک لگائے بیٹھے نامعلوم مسلح موٹرسائیکل سواروں نے پولیس وین پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ اتنی شدید تھی کہ پولیس کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا۔ اس اچانک حملے کے نتیجے میں پولیس وین میں سوار چاروں ملزمان شدید زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتولین پر چند روز قبل ایک خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام لگایا گیا تھا، جس پر مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام ہسپتال اور جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس ہائی پروفائل واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حملہ آوروں کو ملزمان کی نقل و حرکت کی اطلاع کس نے دی اور یہ سکیورٹی میں کس کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ حکام نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس واقعے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عوامی حلقوں کی طرف سے اس واقعے پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور پولیس تحویل میں ملزمان کے قتل کو قانون کی حکمرانی پر ایک بدنما داغ قرار دیا جا رہا ہے۔