برمنگھم:قومی کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے خلاف تین میچوں کی سیریز میں وائٹ واش سے بچنے کے عزم کے ساتھ آج سے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں میدان میں اترے گی۔ برمنگھم میں کھیلے جانے والے اس آخری اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ کے لیے پاکستان کی حتمی حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جب کہ ٹیم کے بارہ ممکنہ کھلاڑیوں کے نام بھی سامنے آ گئے ہیں۔ مہمان ٹیم اس میچ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیریز کا پُرعزم اختتام کرنے کی خواہاں ہے۔
ذرائع کے مطابق ایجبسٹن ٹیسٹ کے لیے اعلان کردہ بارہ رکنی اسکواڈ میں تین نئے کھلاڑیوں کو ڈیبیو کا موقع دیے جانے کا قوی امکان ہے۔ ٹیم کی جانب سے یہ فیصلہ نوجوان ٹیلنٹ کو نکھارنے اور موجودہ حالات میں مڈل آرڈر اور بالنگ اٹیک کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ شائقین کرکٹ کی جانب سے ان نوجوان کھلاڑیوں سے شاندار پرفارمنس کی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں تاکہ ٹیم کو ہزیمت سے بچایا جا سکے۔
سیریز کے اس آخری معرکے کے لیے قومی کھلاڑیوں نے گزشتہ چند روز سے سخت پریکٹس سیشنز میں حصہ لیا ہے، جہاں بیٹنگ، فیلڈنگ اور بولنگ کی خامیوں کو دور کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ کوچنگ اسٹاف نے کھلاڑیوں کے مورال کو بلند رکھنے کے لیے خصوصی سیشنز بھی منعقد کیے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستانی بلے بازوں نے ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کیا اور بولرز نے ابتدائی اوورز میں وکٹیں حاصل کیں، تو انگلینڈ کے لیے میچ جیتنا آسان نہیں ہوگا۔
میچ کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوگا اور ملک بھر کے شائقین اس اہم مقابلے کو دیکھنے کے لیے بے صبری سے منتظر ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور ٹیم مینجمنٹ نے بھی کھلاڑیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے کہ وہ دباؤ پر قابو پا کر ملک کا نام روشن کریں۔ ایجبسٹن کی پچ پر ابتدائی گھنٹوں میں فاسٹ بولرز کو مدد ملنے کی توقع ہے، جس کا فائدہ اٹھانا پاکستانی بولنگ اٹیک کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہوگا۔