کے پی پولیس کو پنجاب پولیس نہیں بننے دیں گے، سہیل آفریدی کا دوٹوک اعلان

پشاور:
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی پولیس فورس کی خودمختاری اور پالیسیوں کے حوالے سے انتہائی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صوبے کے اندر پولیس کے نظام کو کسی بھی بیرونی یا غیر متعلقہ ماڈل پر ڈھالنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ وہ کسی بھی قیمت پر خیبر پختونخوا پولیس کو پنجاب پولیس کی طرز پر تبدیل نہیں ہونے دیں گے اور صوبے کے روایتی انتظامی ڈھانچے کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔

صوبائی دارالحکومت میں اہم سرکاری امور اور انتظامی امور سے متعلق منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو لازوال قربانیاں دی ہیں، وہ خط تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی پولیس ایک خودمختار اور پیشہ ورانہ فورس ہے جو اپنے عوام کے تحفظ کے لیے بہترین انداز میں فرائض سر انجام دے رہی ہے، اور اس کی جاندار روایات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت پولیس فورس کو مزید جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے تاکہ وہ چیلنجز سے احسن طریقے سے نبردآزما ہو سکے، تاہم اس عمل میں کسی دوسرے صوبے کے انتظامی ماڈل کی اندھی تقلید نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ کے پی پولیس کیOperational اور انتظامی آزادی کو برقرار رکھنا ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن آئینی و قانونی اقدام اٹھایا جائے گا تاکہ فورس کا مورال بلند رہے۔