لندن: برطانوی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے ہونے والی تمام درآمدات پر فوری پابندی عائد کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کی جانب سے جاری کردہ اس پالیسی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کی جانے والی ان بستیوں کی مصنوعات کو اب برطانوی مارکیٹ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس اقدام کو بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں ایک انتہائی اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں برطانوی موقف میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
برطانوی وزارت خارجہ کے مطابق، اس پابندی کا مقصد نہ صرف غیر قانونی بستیوں کی اقتصادی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے بلکہ فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی کو روکنا بھی ہے۔ وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں مزید انتباہ کیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی توسیع اور فلسطینی آبادی کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں ملوث افراد، تنظیموں اور اداروں کو بھی سخت ترین پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ برطانوی حکومت اس ضمن میں ایسے تمام عناصر کے خلاف سفارتی اور مالیاتی دباؤ بڑھانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کا یہ فیصلہ خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ حالیہ مہینوں میں مغربی کنارے میں تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد دنیا بھر کے انسانی حقوق کے ادارے اور عالمی طاقتیں اسرائیل پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ برطانیہ کے اس قدم کے بعد دیگر یورپی ممالک بھی اس نوعیت کے اقدامات پر غور کریں گے، جس سے اسرائیل کو عالمی سطح پر معاشی اور سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔