حکومت کا دھرنوں کے دوران رابطہ ہوا، مذاکرات سے معذرت کی: حافظ نعیم

اسلام آباد: جماعتِ اسلامیِ پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں جاری حالیہ دھرنوں اور احتجاجی تحریک کے دوران حکومتی حلقوں کی جانب سے باضابطہ طور پر رابطہ کیا گیا تھا، تاہم ان کی جماعت نے سیاسی اور عوامی مفاد میں اس رابطے پر مثبت جواب دینے سے معذرت کر لی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعتِ اسلامی اصولوں کی سیاست پر یقین رکھتی ہے اور پسِ پردہ مک مکا کی بجائے عوام کے حقوق کی حقیقی ترجمانی کو اپنا اولین فریضہ سمجھتی ہے۔

ملی یکجہتی کونسل اور دیگر سیاسی اکابرین سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمران عوامی مشکلات کا ادراک کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی کے ظالمانہ بلوں نے غریب عوام کا جینا محال کر رکھا ہے اور ایسے عالم میں جب عوام سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں، حکومت صرف وقتی تدابیر اور کاغذی نعروں پر گزارا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی نے ہمیشہ عوام کے حقوق کی جنگ لڑی ہے اور کسی بھی دباؤ یا پیشکش کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے۔

امیر جماعتِ اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے رابطے کا مقصد محض تحریک کو کمزور کرنا اور احتجاجی دباؤ کو ختم کرنا تھا، لیکن ہم نے اصولوں پر سودے بازی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ملک کو درپیش حقیقی بحرانوں کا حل منصفانہ انتخابات، آئین کی بالادستی اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی میں ہی پوشیدہ ہے۔ جب تک ملک میں حقیقی جمہوری روایات کو فروغ نہیں دیا جاتا اور عام آدمی کو ریلیف فراہم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک ملک بحرانوں کے گرداب سے نہیں نکل سکتا۔