اسلام آباد: بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک متنازع نقشہ شیئر کیے جانے کے بعد سفارتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے آئس لینڈ کی حکومت نے فوری طور پر امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ اس متنازع اقدام نے دونوں ممالک کے درمیان روایتی دوستانہ تعلقات میں تناؤ پیدا کر دیا ہے، جس پر عالمی سطح پر بھی تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
واشنگٹن:
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ اس نقشے میں خطے کی جغرافیائی حدود اور سیاسی پوزیشن کو انتہائی متنازعہ انداز میں دکھایا گیا تھا، جس پر آئس لینڈ نے اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے منافی قرار دیا۔ آئس لینڈ کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے علاقائی امن اور دو طرفہ تعاون کے عمل کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے تحال اس طلبی پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
راولپنڈی:
اس سفارتی بحران کے بعد بین الاقوامی سیاست کے ماہرین کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس نوعیت کے حساس نقشے شیئر کرنا عالمی سطح پر سفارتی آداب کے خلاف ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں ڈیجیٹل ڈپلومیسی کتنی حساس نوعیت اختیار کر چکی ہے۔ آئس لینڈ کے اس دوٹوک موقف کے بعد دیگر یورپی ممالک بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ امریکہ اس غلط فمی کو جلد دور کرنے کی کوشش کرے گا۔