سائنس دانوں نے مینڈک کی ایک نایاب نسل دریافت کی ہے جو تقریباً 100 سال تک سائنسی دنیا کی نظروں سے اوجھل رہی۔ حیران کن طور پر اس نسل کے نمونے تقریباً ایک صدی سے میوزیم میں موجود تھے، لیکن انہیں دوسری عام اقسام کا حصہ سمجھا جاتا رہا۔اس نئی نسل کی باضابطہ تفصیل بین الاقوامی سائنسی جریدے زوکیز (ZooKeys) میں شائع کی گئی ہے۔ ماہرین حیاتیات اور ٹیکسانومی کے ماہرین پر مشتمل ٹیم نے پرانے میوزیم نمونوں کا دوبارہ جائزہ لیا اور جدید جینیاتی سیکوینسنگ کے ساتھ جسمانی ساخت کا تفصیلی تجزیہ کیا، جس سے ثابت ہوا کہ یہ مینڈک پہلے سے شناخت شدہ انواع سے مختلف ہے۔
ئی شناخت شدہ نسل کو ملپے روبَر فراگ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مینڈک زیادہ تر رات کے وقت سرگرم رہتا ہے، جبکہ اس کے نر جنگلات میں زمین سے کئی میٹر بلند جھاڑیوں اور برومیلیڈ پودوں کے نر اور مادہ میں رنگت کے حوالے سے بھی نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ مادہ کے جسم کے نچلے حصے اور رانوں پر سیاہ دھب پر بیٹھ کر آوازیں نکالتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس کی آواز بلند اور منفرد ہے جو کسی حد تک کلک جیسی محسوس ہوتی ہے۔اس نسل کے نر اور مادہ میں رنگت کے حوالے سے بھی نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ مادہ کے جسم کے نچلے حصے اور رانوں پر سیاہ دھبوں کے ساتھ نارنجی یا ہلکے نیلے رنگ کے نشانات ہوسکتے ہیں، جبکہ نر کی رنگت نسبتاً یکساں ہوتی ہے۔یہ مینڈک ایکواڈور اور کولمبیا کے جنگلات میں پایا جاتا ہے۔ بعد ازاں کیے گئے فیلڈ سروے میں سائنس دانوںاتی تنوع کی کئی انواع موجود ہوسکتی ہیں جہاں طویل عرصے سے سائنسی تحقیق جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی نوع کی درست نے اس کی زندہ آبادیوں کی بھی تصدیق کی۔ماہرین کے مطابق یہ دریافت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دنیا کے ایسے علاقوں میں بھی حیاتیاتی تنوع کی کئی انواع موجود ہوسکتی ہیں جہاں طویل عرصے سے سائنسی تحقیق جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی نوع کی درست شناخت اس کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔