پمز اسپتال کی نرسری میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں متعدد نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے واقعے نے والدین کو شدید صدمے سے دوچار کردیا ہے۔ متاثرہ والدہ نے الزام عائد کیا ہے کہ نرسری کو لاک کرکے عملہ وہاں سے چلا گیا اور یہ محض حادثہ نہیں بلکہ مبینہ طور پر جان بوجھ کر آگ لگائی گئی۔فتگو کرتے ہوئے متاثرہ والدہ نے کہا کہ نرسری کو لاک کرکے جانے کی وجہ بتائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو غائب کیا گیا یا آگ میں جھونکا گیا، اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ واقعے میں ڈاکٹروں، نرسز یا اسپتال کے عملے میں سے کسی کو خراش تک نہیں آئی، جبکہ صرف بچے متاثر ہوئے۔متاثرہ والدہ نے ریسکیو اور پولیس کی مبینہ تاخیر پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ بڑے لوگوں کو پہلے بچایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ریسکیو ٹیم مبینہ طور پر دو گھنٹے بعد جبکہ پولیس چار گھنٹے بعد پہنچی۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور اسپتال کے عملے پر بھی شدید تنقید کی اور الزام لگایا کہ متعلقہ حکام موقع پر آئے اور واپس چلے گئے۔دوسری جانب پمز کے سربراہ پروفیسر عمران سکندر نے آتشزدگی کے واقعے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 15 بتائی گئی ہے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کے مطابق ایک نومولود سمیت متعدد افراد کو ریسکیو کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کی تحقیقات جاری ہیں اور آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی۔ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔