پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں یا نہیں، اس پر تبصرہ نہیں کرسکتا، تاہم دال میں کچھ تو کالا ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا پیج ایک بھی ہوسکتا ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں کچھ معاملات واضح نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے تحفظات دور ہونے تک حکومت کے ساتھ تعاون معطل رہے گا۔
نئے صوبوں کے حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے نئے صوبوں پر اپنے ادارے کا مؤقف پیش نہیں کیا تھا بلکہ صرف ایک سوال کا جواب دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے کہ اتفاق رائے ہو تو نیا صوبہ بنایا جائے۔ عوام جو فیصلہ کریں گے، پیپلز پارٹی اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ ہم نے زور زبردستی کو نہ کل قبول کیا اور نہ آئندہ کبھی قبول کریں گے۔پی پی چیئرمین نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی سیاست میں اتنا تجربہ نہیں رکھتے۔ اگر وہ موجودہ نظام کو ناکارہ قرار دے رہے ہیں تو پھر میرے الٹی گنتی والے بیان کو درست سمجھنا چاہیے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ دعا ہے اللہ تعالیٰ عمران خان کو صحت عطا فرمائے۔ تاہم سپریم کورٹ کے حکم کا انتظار کرنے کے بجائے اگر حکومت خود ان کا علاج کراتی تو بہتر ہوتا۔28ویں ترمیم کے حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ آج تک کوئی تجویز ہمارے سامنے نہیں آئی۔ حکومت پیپلز پارٹی کے بغیر قانون سازی کرسکتی ہے تو کرلے۔انہوں نے کہا کہ کون کہتا ہے ہم نئے صوبوں کے خلاف ہیں؟ سینیٹ کمیٹی نے جنوبی پنجاب صوبے کی بات کی تھی، اگر سندھ اسمبلی نے اس حوالے سے کوئی قرارداد منظور کی ہے تو بتایا جائے۔