ڈیپ فیک ٹیکنالوجی نیا خطرہ، جعلی ویڈیوز اور آوازوں سے فراڈ کا خدشہ

مصنوعی ذہانت جہاں زندگی کے مختلف شعبوں میں سہولتیں پیدا کر رہی ہے، وہیں اس کا غلط استعمال ڈیپ فیک کی صورت میں ایک نیا خطرہ بن گیا ہے۔ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسی جعلی تصاویر، ویڈیوز اور آڈیوز تیار کی جاسکتی ہیں جو بظاہر اصلی محسوس ہوتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی میں کسی شخص کے چہرے، آواز، حرکات اور اندازِ گفتگو کی نقل کرکے جعلی مواد تیار کیا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق ڈیپ فیک میں جنریٹیو اے آئی اور ڈیپ لرننگ ٹیکنالوجی کے ذریعے حقیقی تصاویر، ویڈیوز اور آوازوں سے پیٹرن سیکھ کر نیا مواد تیار کیا جاتا ہے، جس سے عام صارف کے لیے حقیقت اور جعل سازی میں فرق کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ڈیپ فیک صرف تصاویر اور ویڈیوز تک محدود نہیں بلکہ آواز بھی مصنوعی طور پر تیار کی جاسکتی ہے، جسے وائس کلوننگ یا ڈیپ فیک آڈیو کہا جاتا ہے۔اے آئی کسی شخص کی آواز کے مختصر نمونے سے اس کے لہجے اور بولنے کے انداز کی نقل کرتے ہوئے انتہائی مشابہ آواز تیار کرسکتی ہے۔ماہرین کے مطابق جعل ساز اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کسی رشتہ دار، دوست، افسر یا بینک نمائندے کی جعلی آواز بنا کر لوگوں سے رقم یا حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ مشکوک ویڈیو، آڈیو یا فون کال پر فوری یقین کرنے کے بجائے معلومات کی آزاد ذرائع سے تصدیق کریں۔