(15 جولائی 2026): عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی ترسیل متاثر ہوئی۔ اس دوران سعودی عرب نے ریڈ سی کے راستے پائپ لائن کے ذریعے تیل کی فراہمی جاری رکھی، جبکہ متحدہ عرب امارات نے الفجیرہ بندرگاہ کو متبادل راستے کے طور پر استعمال کیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ متبادل راستے سپلائی کے نقصان کا مکمل ازالہ نہیں کر سکے، جس کے باعث خلیجی ممالک میں ریفائنڈ مصنوعات کی پیداوار بھی کم ہوئی۔آئی ایم ایف کے مطابق اس بحران سے ڈیزل اور جیٹ فیول کی سپلائی سب سے زیادہ متاثر ہوئی، جبکہ متاثرہ خطہ عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً 10 فیصد فراہم کرتا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ خام تیل کی قیمتیں بڑھنے کے بعد 90 سے 100 ڈالر فی بیرل کے درمیان مستحکم رہیں، تاہم عالمی منڈی میں آئندہ کسی نئے بحران کے باعث قیمتوں میں بڑے اضافے کا خطرہ موجود ہے۔