پیوٹن نے ایران کے اتحاد کو سراہا، تنازع کو عالمی بحران قرار دے دیا

ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ایران کو اس بات پر داد دینی چاہیے کہ وہ اسرائیلی اور امریکی حملوں کے باوجود اندرونی طور پر تقسیم نہیں ہوا۔ ان کے مطابق ایرانی معاشرہ مزید مضبوط ہو رہا ہے اور عوام نے ملکی دفاع کے لیے غیرمعمولی یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔سینٹ پیٹرزبرگ میں عالمی خبر رساں اداروں کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ ایران کے گرد جاری کشیدگی اب ایک عالمی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جس کے باعث امریکا کی توجہ یوکرین کے تنازع سے ہٹ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کا بحران علاقائی نوعیت کا ہے جبکہ ایران سے متعلق صورتحال عالمی اثرات کی حامل بن چکی ہے۔پیوٹن نے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان قریبی اور بااعتماد تعلقات موجود ہیں، تاہم نہ تو ایران نے روس سے اسلحہ طلب کیا اور نہ ہی روس نے ایران کو اسلحہ فراہم کیا ہے۔روسی صدر نے ایرانی عوام کے اتحاد اور ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ معاہدے یا تصفیے میں ایران کے مفادات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششیں اور ایرانی قیادت کی پالیسیاں تنازع کے حل میں مددگار ثابت ہوں گی۔پیوٹن نے کہا کہ روس اس بحران سے وقتی معاشی فائدہ حاصل کر سکتا ہے کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن روس کی خواہش ہے کہ تنازع جلد ختم ہو اور خطے میں استحکام بحال ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ بحران کے باعث فلسطین کا مسئلہ عالمی توجہ سے کسی حد تک اوجھل ہو گیا ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسئلہ حل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ایران اور آبنائے ہرمز کے گرد پیش آنے والے واقعات نے فلسطینی مسئلے کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے، مگر یہ مسئلہ بدستور موجود ہے۔