شکارپور: سندھ کے کچے کے علاقوں میں جاری ’’نجات مہران‘‘ پولیس آپریشن کے دوران 60 ڈاکوؤں نے سندھ حکومت کی سرینڈر پالیسی کے تحت ہتھیار ڈال کر خود کو قانون کے حوالے کر دیا۔ایس ایس پی شکارپور محمد کلیم ملک کے مطابق سرینڈر کرنے والوں میں بیلو تیغانی، بڈانی، سبزوئی اور دیگر بدنام جرائم پیشہ گروہوں کے ارکان شامل ہیں، جو قتل، ڈکیتی، رہزنی، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین مقدمات میں مطلوب تھے۔انہوں نے بتایا کہ ایک کروڑ روپے انعام یافتہ اور 102 مقدمات میں مطلوب خطرناک ڈاکو بیلو تیغانی نے بھی اپنے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیے ہیں، جسے نجات مہران آپریشن کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔سرینڈر کی مرکزی تقریب پولیس ہیڈکوارٹر گراؤنڈ میں منعقد ہوئی، جہاں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔سرینڈر کرنے والوں میں عبدالرحمان تیغانی، منظور جعفری، محرم تیغانی، علی گل، وحید سبزوئی، ٹوڑو عرف میر شر، سلطان بجارانی، بشیر بھیو اور منظور تیغانی سمیت متعدد مطلوب ملزمان شامل تھے، جن پر مختلف مالیت کے انعامات بھی مقرر تھے۔تقریب کے دوران تمام افراد نے اپنے ہتھیار حکام کے حوالے کیے اور آئندہ جرائم سے دور رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ایس ایس پی محمد کلیم ملک نے کہا کہ سرینڈر کرنے والے تمام افراد کے ساتھ قانون اور آئین کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کی سرینڈر پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے افراد کو قانونی عمل سے گزرنا ہوگا اور ان کے مقدمات کا فیصلہ عدالتوں کے مطابق کیا جائے گا۔