اسلام آباد (ویب ڈیسک): آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سولر پینلز پر ٹیکس میں اضافے کے باعث قیمتوں میں بڑا اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے بعد عوام کے لیے سولر سسٹم لگوانا مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق International Monetary Fund نے پاکستان میں مختلف شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف نے الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے ساتھ ساتھ سولر پینلز کو بھی “اشرافیہ کی ضرورت” قرار دیا ہے، جس کے بعد ان پر دی جانے والی ٹیکس رعایت ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جس کے نتیجے میں سولر سسٹم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ فیصلہ نافذ ہوا تو گھریلو اور کمرشل سطح پر سولر انرجی کی تنصیب مزید مہنگی ہو جائے گی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ International Monetary Fund کے ساتھ نئے مالیاتی پروگرام پر مذاکرات جاری ہیں، جس کے باعث حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے اور رعایتی استثنیٰ ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔