اسلام آباد (ویب ڈیسک): آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس چھوٹ ختم کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 1 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق International Monetary Fund نے مختلف شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ اور رعایتی پیکیجز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے انہیں محدود یا ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف نے الیکٹرک گاڑیوں، ہائبرڈ گاڑیوں اور سولر پینلز پر دی جانے والی ٹیکس رعایتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کا مؤقف ہے کہ ان سہولیات سے زیادہ تر خوشحال اور اشرافیہ طبقہ فائدہ اٹھاتا ہے، اس لیے ان پر خصوصی ٹیکس رعایت برقرار رکھنے کا جواز نہیں بنتا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں پر 1 فیصد سیلز ٹیکس برقرار رکھنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں، جس کے باعث آئندہ بجٹ میں اس شرح کو بڑھا کر 18 فیصد کیے جانے کا امکان ہے۔
اسی طرح ہائبرڈ گاڑیوں پر موجود 8 فیصد رعایتی سیلز ٹیکس بھی ختم کر کے عام شرح 18 فیصد تک لائی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اس وقت International Monetary Fund کے ساتھ طویل مدتی مالیاتی پروگرام اور بیل آؤٹ پیکیج کے حوالے سے مذاکرات کر رہی ہے، جس کے تحت ٹیکس نیٹ میں توسیع اور مختلف استثنیٰ ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
تاہم یہ تمام تجاویز فی الحال زیر غور ہیں، حتمی فیصلے کا اعلان وفاقی بجٹ پیش ہونے کے بعد کیا جائے گا۔