کراچی میں “ڈرگ کوئین” کیس: پولیس اور اے این ایف اہلکاروں پر رشوت کے بدلے سہولت کاری کے سنگین الزامات سامنے آ گئے

کراچی: کراچی میں “ڈرگ کوئین انمول عرف پنکی” کیس کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر مبینہ سہولت کاروں سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے ایک اعلیٰ پولیس افسر پر الزام ہے کہ انہوں نے ماضی میں درج مقدمات میں ملزمہ کی مبینہ طور پر مدد کی، جبکہ کمزور تفتیش اور ناقص کیسز کے باعث متعدد مقدمات عدالت میں ثابت نہ ہو سکے اور ملزمہ کو نو کیسز میں بریت مل گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں جب ملزمہ کے مبینہ منشیات سپلائرز گرفتار ہوئے تو ان کے خلاف بھی کمزور چالان تیار کیے گئے، جس کے باعث وہ ملزمان بھی رہا ہو گئے۔ پیشیوں اور کیس مینجمنٹ میں جلد بازی کے معاملات پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

تفتیش کے دوران ملزمہ کی جانب سے یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ وفاقی انسدادِ منشیات فورس (اے این ایف) کے ایک اہلکار نے اس کے بھائی کو متعدد بار حراست میں لیا لیکن مبینہ طور پر رشوت لے کر چھوڑ دیا۔ ملزمہ کے مطابق اب تک تقریباً ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے تک کی رشوت دی جا چکی ہے۔

مزید الزامات میں کہا گیا ہے کہ بعض پولیس تھانوں سمیت درخشاں، گزری اور بوٹ بیسن کے علاقوں میں بھی مبینہ طور پر بھاری رقوم دی جاتی رہی ہیں۔ کیس میں بعض افراد کے خاندانی اور پیشہ ورانہ روابط کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم یہ تمام الزامات تفتیش کا حصہ ہیں۔