آئندہ بجٹ میں 215 ارب کے نئے ٹیکسز، پاکستان کی آئی ایم ایف کو یقین دہانی

International Monetary Fund اور پاکستان کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق مشاورت کا دوسرا دور مکمل ہو گیا، جس میں حکومت نے 215 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت مجموعی طور پر 430 ارب روپے کے ریونیو اقدامات متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ مالی اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
حکومتی حکمت عملی کے تحت ریٹیل سیکٹر سے سیلز ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے نئی اسکیم متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے تاجروں کو سیلز ٹیکس نیٹ میں رجسٹرڈ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے رجسٹریشن کا طریقہ کار آسان اور کم پیچیدہ بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس وصولی کو شفاف بنانے کے لیے سیلز ٹیکس ایکٹ کے تھرڈ شیڈول کا دائرہ کار بھی وسیع کیا جائے گا۔ اس وقت بیشتر پیک شدہ اشیاء آٹھویں شیڈول میں شامل ہیں، جہاں مصنوعات پر قیمت اور سیلز ٹیکس کی شرح واضح درج نہیں ہوتی۔آئندہ بجٹ میں متعدد پیک شدہ اشیاء کو آٹھویں شیڈول سے نکال کر تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے کی تجویز زیر غور ہے، تاکہ مینوفیکچررز مصنوعات پر قیمت اور ٹیکس کی تفصیلات واضح طور پر درج کریں۔Federal Board of Revenue ذرائع کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ٹیکس چوری کی روک تھام، معیشت کی دستاویز سازی اور آئی ایم ایف کے ریونیو اہداف کا حصول ہے۔