کراچی: سندھ حکومت نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کی کھالیں جمع کرنے سے متعلق سخت ضابطہ اخلاق نافذ کر دیا ہے۔ حکومت کے مطابق کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کی تحریری اجازت کے بغیر کوئی بھی ادارہ یا تنظیم کھالیں جمع نہیں کر سکے گی۔
جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صرف رجسٹرڈ فلاحی ادارے، مدارس اور منظور شدہ تنظیموں کو کھالیں جمع کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ کالعدم یا جعلی ناموں سے کام کرنے والی تنظیموں پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔
حکومت سندھ نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت دی ہے کہ نیکٹا کے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اس کے علاوہ کھالیں جمع کرنے کے لیے سڑکوں یا عوامی مقامات پر کیمپ لگانے، بینرز آویزاں کرنے، گاڑیوں اور عمارتوں پر جھنڈے لگانے اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی پابندی ہوگی۔
اعلامیے کے مطابق اجتماعی قربانی کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ منتظمین کو قربانی کے دوران پرمٹ اپنے ساتھ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
امن و امان برقرار رکھنے کے لیے 10 سے 12 ذوالحج تک اسلحہ لائسنس بھی معطل رہیں گے۔ محکمہ داخلہ سندھ نے خبردار کیا ہے کہ زبردستی یا بھتہ خوری کے ذریعے کھالیں جمع کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں پر دفعہ 188 پی پی سی کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر جمع کی گئی کھالیں فوری ضبط کر کے مجاز فلاحی اداروں کے حوالے کی جائیں گی، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کھالوں کی وصولی کے مقامات کی مسلسل نگرانی کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے تاکہ عید کے دوران سیکیورٹی اور نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔