میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق تاحال پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، اس لیے موجودہ صورتحال پر قبل از وقت کوئی حتمی رائے دینا ممکن نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وفاقی بجٹ کے معاملے پر حکومت سے مذاکرات کے لیے پیپلز پارٹی کی چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو پارٹی کے تحفظات اور معاشی تجاویز حکومت کے سامنے پیش کرے گی۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے اور حکومت کو بجٹ کی منظوری کے لیے پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لینا ہوگا۔
لاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا کہ پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر نہ آئندہ بجٹ منظور ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی آئینی ترمیم ممکن ہے۔