اڈیالہ جیل سے امراضِ قلب کے اسپتال منتقل کیے جانے والے تین قیدیوں میں سے ایک قیدی دورانِ منتقلی دم توڑ گیا۔ جیل ذرائع کے مطابق قیدیوں کو دل کی تکلیف کے باعث راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا جا رہا تھا کہ اسی دوران ایک قیدی ممتاز اقبال جاں بحق ہوگیا۔ ممتاز اقبال تھانہ کلر سیداں میں منشیات کے مقدمے میں گرفتار تھا، جبکہ بقیہ دو قیدی قتل کے مقدمات میں زیرِ حراست ہیں۔ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی حالت تشویشناک ہے کیونکہ یہاں گنجائش سے تین گنا زیادہ قیدی موجود ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق جیل میں 2,200 قیدی رکھنے کی گنجائش ہے لیکن اس وقت 7 ہزار سے زائد قیدی قید ہیں۔واضح رہے کہ 2024 میں بھی اڈیالہ جیل میں افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، جب جیل کے ایڈز وارڈ میں چار قیدیوں نے ایک قیدی کو پھندا ڈال کر قتل کر دیا تھا۔ تمام قیدی ایڈز کے مریض تھے اور مخصوص وارڈ میں قید تھے۔ جیل میں بڑھتی ہوئی بھیڑ اور ناقص سہولیات کے باعث انتظامیہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔