سعودی عرب میں غیرملکیوں کے بچوں کی ملازمت کے نئے ضوابط جاری

ریاض: سعودی کابینہ نے مملکت میں مقیم غیرملکیوں کے اہل خانہ، بالخصوص بچوں کی ملازمت کے حوالے سے نئے ضوابط جاری کیے ہیں اور وزیر افرادی قوت و سماجی ترقی کو اس بارے میں تفصیلی نکات مرتب کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں 22 شعبان 1444 ہجری کے فیصلہ نمبر 585 میں ترمیم کی گئی ہے، جس کے تحت وزیر افرادی قوت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مملکت میں قانونی طور پر کام کرنے والے غیرملکیوں کے بچوں کے لیے ملازمت کے قواعد وضوابط تیار کریں۔ ان ضوابط میں یہ یقینی بنایا جائے گا کہ وہ ایسے پیشوں میں شامل نہ ہوں جو صرف سعودی شہریوں کے لیے مخصوص ہیں۔کابینہ کے فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ غیرملکیوں کے اہل خانہ کی ملازمت کو باضابطہ قانونی حیثیت دینے کے لیے فیس کا تعین وزارتِ خزانہ اور آمدنی بڑھانے والے اداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ یہ فیس عام کارکنوں پر لاگو ورک پرمٹ فیس کے مطابق ہوگی۔فی الحال غیرملکی کارکنوں کے اہل خانہ مملکت میں مقیم تو ہو سکتے ہیں لیکن انہیں قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ سعودی حکومت نے اہل خانہ پر فی فرد ماہانہ 400 ریال فیس عائد کر رکھی ہے، جو تین، چھ، نو یا 12 ماہ کے حساب سے اپنی سہولت کے مطابق جمع کرائی جا سکتی ہے۔نئے ضوابط کے نفاذ کے بعد غیرملکی کارکنوں کے اہل خانہ کو مملکت میں ملازمت کے مواقع ملنے کی راہ ہموار ہوگی، تاہم یہ صرف انہی شعبوں تک محدود ہوگا جو سعودی شہریوں کے لیے مخصوص نہیں ہیں۔