سیلاب متاثرین مشکلات کا شکار، امدادی سامان اصل حقداروں تک نہ پہنچ سکا

پنجاب میں آنے والے سیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں غریب عوام کے گھر، فصلیں اور روزگار سب کچھ پانی میں بہہ گیا۔ ہزاروں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے جبکہ شہروں کا نقشہ ہی بدل گیا۔مظفر گڑھ میں دریائے چناب کے کنارے آباد بستیوں میں لوگوں کی حالت نہایت ابتر ہے۔ ایک متاثرہ خاتون نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ اس بار کا سیلاب پچھلے تمام سیلابوں سے زیادہ خطرناک اور تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ ان کے مطابق گھر کا کوئی سامان نہیں بچا، راتیں سڑک پر اور دن درختوں کے سائے میں گزرتے ہیں۔متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ کھانے پکانے کے لیے چولہا تک باقی نہیں رہا۔ حکومت نے صرف اعلانات کیے ہیں، عملی طور پر مدد نہیں ملی۔ امداد کے نام پر دو خاندانوں کو ایک ہی خیمہ دیا گیا ہے جس سے لڑائی جھگڑے بڑھ گئے ہیں۔ ان کے مطابق امدادی سامان اصل حقداروں تک نہیں پہنچتا۔انہوں نے بتایا کہ پہلے وہ درختوں کے خشک پتوں سے چٹائیاں بنا کر بیچا کرتے تھے لیکن اب وہ پتے بھی نہیں ملتے۔ خاتون نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ ان کے لیے گھر تعمیر کیے جائیں تاکہ سر چھپانے کی کوئی جگہ میسر آ سکے۔