انڈیا میں سوشل میڈیا سے صحافتی مواد ہٹانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کی تصدیق رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز ار ايس ايف کی حالیہ رپورٹ سے ہوتی ہے۔ 2026 کے آغاز سے نافذ ہونے والے نئے قوانین کے تحت، آن لائن پلیٹ فارمز کو متنازعہ مواد ہٹانے کے لیے صرف تین گھنٹے کا وقت دیا جا رہا ہے، جو کہ عوام کے حقِ معلومات کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔تنظیم نے اتوار کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یہ غیر شفاف سنسرشپ کا نظام عوامی معلومات تک رسائی کو محدود کر رہا ہے۔ کشمیری علاقوں میں پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے افراد کی رپورٹس، گوگل کے مجوزہ ڈیٹا سینٹر منصوبے کی وجہ سے مقامی آبادیوں کی بے دخلی، اور پولیس تشدد کے الزامات پر طلبہ کے بیانات جیسے اہم صحافتی مواد کو حکام کی درخواست پر فوری طور پر ہٹایا جا رہا ہے۔نئے قواعد کے تحت، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو متنازعہ مواد کی نشاندہی کرنے کے بعد صرف تین گھنٹے میں اس مواد کو ہٹانا ہوگا، جو کہ ایک غیر معمولی اور سخت اقدام ہے۔ اس کے نتیجے میں، صحافیوں اور شہریوں کی جانب سے معلومات کی آزادانہ ترسیل میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات انڈیا میں آزادی اظہار رائے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سنسرشپ کے نتیجے میں عوامی مسائل پر بحث و مباحثہ محدود ہو جائے گا، جو کہ جمہوری معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔اس کے علاوہ، انڈیا میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے مواد ہٹانے کے عمل میں شفافیت کی کمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال نے صحافتی برادری میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے، جس کی وجہ سے صحافیوں کو اپنی رپورٹنگ میں محتاط رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔حکومت کی جانب سے اس نئے قانون کی وضاحت کی گئی ہے کہ یہ عوامی تحفظ کے لیے ضروری ہے، لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس کے ذریعے حکومت اپنی مرضی کے مطابق معلومات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔