سکھر:سکھر میونسپل کارپوریشن کا 13واں اجلاس مقامی ہوٹل میں میئر سکھر و ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں شہر میں جاری ترقیاتی اور ڈرینج کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں ڈپٹی میئر سکھر ڈاکٹر ارشد مغل، میونسپل کمشنر خالد حسین جتوئی، چیئرمینز، وائس چیئرمینز، متعلقہ محکموں کے افسران اور کارپوریشن کے تمام اراکین نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس کے دوران شہر کے بنیادی ڈھانچے بالخصوص نکاسیٔ آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے جاری اقدامات کا احاطہ کیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے واضح کیا کہ بین الاقوامی حالات اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث سندھ حکومت نے نئی ترقیاتی اسکیموں کو فی الحال شامل نہیں کیا، تاہم عوامی فلاح و بہبود کے جاری منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سکھر میں طویل عرصے سے درپیش ڈرینج کے مسائل کے مستقل حل کے لیے 13 ارب روپے کی لاگت سے جاری ترقیاتی منصوبے کا تقریباً 70 فیصد کام کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے، جبکہ 22,175 رننگ فٹ طویل ڈرینج لائن کو مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔
میئر سکھر نے مزید انکشاف کیا کہ شہر کے 42 پمپنگ اسٹیشنز پر عالمی معیار کے نئے جنریٹرز نصب کیے جا چکے ہیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں پانی کی نکاسی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ انہوں نے بتایا کہ سکھر کے لیے تیار کردہ ڈرینج ماسٹر پلان کے تحت اس وقت شہر کی 12 مختلف اہم لوکیشنز بشمول لاکھا روڈ، شکارپور روڈ، گھنٹہ گھر، کھوسہ گوٹھ اور شالیمار میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کی بدولت سڑکوں پر گندے پانی کے کھڑے ہونے کا دیرینہ مسئلہ بڑی حد تک حل ہو چکا ہے اور شہر میں تقریباً 40 فیصد واٹر ٹریٹمنٹ کا عمل بھی کامیابی سے جاری ہے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ کا کہنا تھا کہ سکھر پاکستان کا پہلا ایسا شہر بننے جا رہا ہے جہاں طویل المدت بنیادوں پر عالمی معیار کا کلائمیٹ پلان نافذ کیا جائے گا تاکہ ماحول کو بہتری اور موسمیاتی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ 22 ماہ سے وفاقی حکومت، ایشین ڈویلپمنٹ بینک، وزیراعلیٰ ہاؤس اور سندھ حکومت کے ساتھ مسلسل بات چیت جاری ہے تاکہ شہر میں فنڈز کے حصول اور عوامی مسائل کے حل میں تیزی لائی جا سکے۔ اجلاس کے آخر میں تمام اراکین نے متفقہ طور پر عزم ظاہر کیا کہ اجتماعی مشاورت سے سکھر کو ایک جدید اور ماڈل شہر بنایا جائے گا۔