سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے کہا ہے کہ سرفراز احمد کو ٹیسٹ ٹیم کا کوچ مقرر کیے جانے کے وقت وہ اس فیصلے کے خلاف تھے، تاہم جس طریقے سے انہیں عہدے سے ہٹایا گیا وہ بھی درست نہیں تھا۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محمد وسیم نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں ایسی کوئی بات نہیں کہ کھلاڑیوں کو بنیادی چیزیں سکھانے کے لیے بہت کچھ درکار ہو، اصل مسئلہ فیصلہ سازی کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم سے متعلق اہم فیصلے کرنے والے زیادہ تر افراد وہی کرکٹرز ہیں جو ماضی میں ان کے ساتھ کھیل چکے ہیں، لیکن کوچنگ، کیمپس اور کھلاڑیوں کی سلیکشن کے فیصلوں کے مثبت نتائج سامنے نہیں آرہے۔
سابق چیف سلیکٹر نے سوال اٹھایا کہ جن کھلاڑیوں کو اب واپس بھیجا جا رہا ہے، انہیں انگلینڈ کس نے بھیجا تھا؟ ان کے مطابق پاکستان کرکٹ کے بنیادی مسائل پر توجہ دینے کے بجائے شارٹ ٹرم فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
محمد وسیم نے کہا کہ بابر اعظم کو پہلے ٹیم سے باہر کیا گیا اور پھر پاکستان سپر لیگ کی کارکردگی کی بنیاد پر واپس لایا گیا۔ اگر اسی طرح قلیل مدتی فیصلے کیے جاتے رہے تو قومی ٹیم مشکلات کا شکار رہے گی۔
انجری کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں میں اعتماد کا فقدان بھی نظر آتا ہے۔ ملتان ٹیسٹ کے دوران امام الحق کی انجری کا علم آخری وقت میں ہوا۔ ان کے مطابق معمولی تکلیف اور انجری میں فرق ہوتا ہے، کھلاڑیوں کو ذہنی طور پر بھی مضبوط ہونا ہوگا۔
محمد وسیم نے مزید کہا کہ انگلینڈ میں کارکردگی اچھی نہ ہونے کا اندازہ تھا، تاہم بنگلادیش اور ویسٹ انڈیز کے خلاف بھی سیریز نہ جیت سکنا تشویش ناک ہے