لارڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کی بدترین شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ٹیسٹ اوپنر امام الحق کی پنڈلی کی انجری کا اعلیٰ سطح پر جائزہ لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امام الحق نے لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز پنڈلی میں تکلیف کی شکایت کی تھی، جس کے بعد وہ پاکستان کی پہلی اننگز مکمل ہونے کے بعد دوسری اننگز میں بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں آئے۔ ان کی عدم شرکت کے باعث ٹیم کی کارکردگی اور ان کی انجری سے متعلق مختلف سوالات اٹھنے لگے۔
میڈیا رپورٹس اور بعض سابق کرکٹرز کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ امام الحق کی انجری حقیقی نہیں تھی اور انہوں نے اپنی تکلیف کے حوالے سے غلط بیانی کی۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی نے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے لارڈز ٹیسٹ کے دوران امام الحق کی پنڈلی کی تکلیف کا مکمل طبی اور انتظامی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحقیقات کے دوران میڈیکل رپورٹس، اسکینز اور ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کا بھی جائزہ لیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پی سی بی نے امام الحق کو لندن سے پہلی دستیاب پرواز کے ذریعے پاکستان واپس بھیجنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ بورڈ کی جانب سے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ انجری کی نوعیت کیا تھی اور آیا اس حوالے سے کسی ضابطے کی خلاف ورزی ہوئی یا نہیں۔
واضح رہے کہ امام الحق کی انجری سے متعلق معاملات پر ماضی میں بھی کرکٹ بورڈ کے بعض عہدیدار تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں پی سی بی کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔