اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور سود کے خاتمے کی آئینی ترامیم پر عمل نہیں ہو رہا، 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کے وسائل میں کٹوتی ناقابلِ قبول ہے: سربراہ جے یو آئی
سکھر (خصوصی رپورٹ):
جمعیت علماءِ اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سکھر میں تنظیمی اجلاس اور اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ملکی سیاست، معیشت، خارجہ پالیسی اور آئینی امور پر مفصل اظہارِ خیال کیا ہے۔ انہوں نے موجودہ حکومتی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو مفاد پرستانہ سیاست نے بحرانوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے، جبکہ عوامی مینڈیٹ پر شب خون مار کر قائم کی گئی حکومتیں ملک کو استحکام نہیں دے سکتیں۔
اسلامی نظام اور آئینی سفارشات پر عملدرآمد کا مطالبہ
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علماءِ اسلام کا مقصد مفادات یا اقتدار کی سیاست نہیں بلکہ اللہ کے کلمے کی سربلندی اور ملک میں عادلانہ اسلامی نظام کا قیام ہے۔
اسلامی نظریاتی کونسل: انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ تمام مکاتبِ فکر کے متفقہ فیصلوں پر مبنی اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش نہیں کی گئیں۔
وفاقی شرعی عدالت اور سود کا خاتمہ: آئین میں سود کے خاتمے اور وفاقی شرعی عدالت کو بااختیار بنانے کی ترامیم کے باوجود اب تک ان پر عملی پیشرفت نہیں ہوئی۔
آئین کی بالادستی: تمام اختیارات کو ایک ادارے یا فردِ واحد کے گرد مرکوز کرنا تشویشناک ہے؛ جب تک عوام کو انصاف نہیں ملے گا، ملک سے محرومیوں اور بدامنی کا خاتمہ ممکن نہیں۔
18ویں آئینی ترمیم اور صوبائی خودمختاری
جے یو آئی کے سربراہ نے واضح کیا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کے مالی حصے اور حقوق میں صرف اضافہ ہو سکتا ہے، کمی ممکن نہیں۔
صوبوں کے قدرتی و معدنی وسائل پر پہلا حق وہاں کے عوام اور آنے والی نسلوں کا ہے۔
صوبائی وسائل میں کٹوتی یا ان کی ملکیت تسلیم نہ کرنے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں۔
نئے صوبوں اور سندھ کی تقسیم: انہوں نے کہا کہ عوام کی رائے کے بغیر کوئی بھی فیصلہ مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ کسی بھی صورت نئے صوبوں یا تقسیم کے لیے تیار نہیں، زبردستی کے فیصلے شدید ردعمل کا سبب بنیں گے۔ فاٹا انضمام کے ادھورے انتظامی ڈھانچے سے سبق سیکھنا چاہیے۔
معاشی زوال اور خارجہ پالیسی
مولانا فضل الرحمان نے معاشی بحران اور علاقائی تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا:
جنگیں وقتی ہوتی ہیں لیکن قوموں کا مستقبل طویل مدتی معاشی استحکام پر منحصر ہوتا ہے۔ بھارت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکا ہے، جبکہ پاکستان چند ارب ڈالرز کے ادھار پر چل رہا ہے۔
خطے کے تمام ممالک بشمول چین، افغانستان، ایران، بھارت اور بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کے لیے واضح اور جامع قومی پالیسی ہونی چاہیے۔
ریاستی پالیسیوں پر تنقید کو غداری یا وفاداری کے سرٹیفکیٹس کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔
انتخابی مینڈیٹ اور حکومتی ساکھ پر سوالات
انہوں نے موجودہ حکمران اتحاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت عوامی مینڈیٹ کے بجائے دھاندلی اور پیسے کے بل بوتے پر خریدی جائے تو اس کی قانونی و اخلاقی حیثیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے زور دیا کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے امن و امان کے مسائل سمیت تمام اہم قومی معاملات پر پارلیمنٹ اور قوم کو اعتماد میں لیا جائے اور شخصیات کے بجائے مستقل ریاستی نظام کی اصلاح پر سنجیدہ مکالمہ شروع کیا جائے۔