ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا ذرائع ابلاغ کے ذریعے عالمی توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے اور جنگ کو طول دینے کے لیے توانائی کی منڈی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔عباس عراقچی نے ہفتے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل سے منسلک بعض عناصر موجودہ صورتحال کے حوالے سے امید افزا تجزیے پیش کر رہے ہیں، تاہم جنگ کے حقیقی اثرات اور اس کے معاشی نتائج کا بوجھ امریکی عوام، بالخصوص صارفین کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں حقائق کو سامنے لانے اور جنگ کے معاشی اثرات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق جنگ سے متعلق بعض دعوؤں کے برعکس اس کے مالی اور معاشی اثرات براہ راست امریکی صارفین پر پڑ رہے ہیں۔عباس عراقچی نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ ایرانی انٹیلی جنس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی توانائی مارکیٹ میں جوڑ توڑ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ امریکی حکومت کے بعض حامی ایسے ذرائع ابلاغ کو استعمال کر رہے ہیں جو آسانی سے گمراہ ہوسکتے ہیں، تاکہ ذاتی مفادات کے لیے توانائی کی قیمتوں پر اثر انداز ہوا جا سکے۔ عراقچی کے مطابق ان عناصر کی کوشش ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک ایسی جنگ میں الجھائے رکھا جائے جس میں، ان کے بقول، امریکا کو شکست کا سامنا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اسرائیل سے ہم آہنگ عناصر بھی مثبت اور خوش کن تجزیوں کے ذریعے جنگ کو جاری رکھنے کی حمایت کر رہے ہیں، تاہم جنگ کے معاشی اثرات سے امریکی صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔عباس عراقچی نے موجودہ صورتحال میں حقائق اور معاشی اثرات کو نظر انداز نہ کرنے پر زور دیا۔