بیجنگ میں ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز، 2 ہزار سے زائد روبوٹس مختلف مقابلوں میں حصہ لیں گے

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں دوسرے ”ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز“ کا انعقاد 22 سے 26 اگست تک ہوگا، جہاں انسان نما روبوٹس لانگ جمپ، ویٹ لفٹنگ، ٹیبل ٹینس اور دیگر مقابلوں میں حصہ لیں گے۔

منتظمین کے مطابق رواں سال دنیا کے 16 ممالک سے 666 ٹیمیں مقابلوں میں شرکت کریں گی، جن میں مجموعی طور پر 2 ہزار 56 انسان نما روبوٹس شامل ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں شریک روبوٹس کی تعداد تقریباً چار گنا بڑھ گئی ہے۔

16 ممالک کی 666 ٹیمیں شریک

بیجنگ میونسپل بیورو آف اکانومی اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر جیانگ گوانگژی کے مطابق امریکا، جرمنی، جاپان سمیت روبوٹکس کے بڑے مراکز سے ٹیمیں مقابلوں میں حصہ لیں گی، جبکہ برازیل نے روبو کپ کے لیے 5 ٹیموں پر مشتمل قومی دستہ بھی تشکیل دیا ہے۔

میزبان چین کی جانب سے 641 ٹیمیں اور ایک ہزار 975 روبوٹس مقابلوں میں شرکت کریں گے۔ ان میں 157 کمپنیاں، 200 جامعات اور تحقیقی ادارے شامل ہیں۔

لانگ جمپ، ویٹ لفٹنگ اور ٹیبل ٹینس کے مقابلے

اس سال مقابلوں کی تعداد 30 سے تجاوز کر جائے گی، جبکہ نئے مقابلوں میں لانگ جمپ، ویٹ لفٹنگ، رسہ کشی اور ٹیبل ٹینس بھی شامل کیے گئے ہیں۔

ان مقابلوں کے ذریعے روبوٹس کی حرکات پر قابو پانے کی صلاحیت، جسمانی ساخت اور بنیادی ہارڈویئر کو جانچا جائے گا۔

روبوٹس حقیقی زندگی کے کام بھی انجام دیں گے

ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز میں کھیلوں کے علاوہ حقیقی زندگی سے متعلق مقابلے بھی ہوں گے۔

روبوٹس کو فیکٹریوں، ہوٹلوں، گھروں اور لاجسٹکس مراکز جیسے ماحول میں مختلف کام انجام دینے ہوں گے، جن میں اشیا کی اسمبلنگ، گھریلو صفائی، ہنگامی صورتحال سے نمٹنا اور لائبریری میں کتابیں ترتیب دینا شامل ہے۔

منتظمین کے مطابق ان مقابلوں کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ روبوٹس حقیقی دنیا کے پیچیدہ کام کس حد تک انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

روبوٹس کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی امید

منتظم جیانگ گوانگژی کے مطابق مقابلوں کے دوران وضع کیے جانے والے کئی اصول مستقبل میں روبوٹکس کے تکنیکی معیارات کا حصہ بن سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جب روبوٹس روزمرہ زندگی کے پیچیدہ کام انجام دینے میں مہارت حاصل کرلیں گے تو مقابلوں میں حاصل ہونے والی کامیابیاں انہیں حقیقی دنیا میں کاروباری آرڈرز اور کام کے مواقع تک پہنچانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

یاد رہے کہ ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز پہلی مرتبہ اگست 2025 میں منعقد ہوئے تھے، جس میں 16 ممالک کی 280 ٹیموں اور 500 سے زائد انسان نما روبوٹس نے شرکت کی تھی۔