بھارت میں اربوں روپے کے خطیر فنڈز سے تعمیر کی جانے والی اہم شاہراہ افتتاح کے محض 40 روز کے اندر شدید تباہی کا شکار ہو گئی ہے، جس کے باعث مسافروں کی جانیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کانپور لکھنؤ ایکسپریس وے کی تعمیر پر 4200 کروڑ بھارتی روپے (پاکستانی ایک کھرب 39 ارب روپے سے زائد) کی بھاری لاگت آئی تھی۔ اس منصوبے کا باضابطہ افتتاح 13 جولائی کو وزیر دفاع راجناتھ سنگھ، مرکزی وزیر نتن گڈکری اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے شاندار تقریب کے دوران کیا تھا، جبکہ 14 جولائی سے اس پر باقاعدہ ٹریفک بحال کی گئی تھی۔
شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت شروع ہوتے ہی ناقص تعمیر کا پول کھل گیا اور محض 40 دنوں کے اندر ایکسپریس وے کم از کم پانچ مختلف مقامات پر دھنس چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق انڈر پاس کے قریب بنائی گئی نکاسی آب کی نالیاں چوبیس گھنٹے بھی نہ چل سکیں اور بارش کے باعث سڑک کے اطراف کی مٹی بہہ جانے سے بڑے گڑھے بن گئے۔ تعمیراتی ایجنسی کی جانب سے کی جانے والی ہنگامی مرمت اور بچھایا گیا ڈامر اگلے ہی روز دوبارہ اکھڑ گیا۔
تعمیراتی کمپنی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے رات کے اندھیرے میں پیچ ورک اور عجلت میں مرمتی کام کروا رہی ہے، تاہم کثیر لاگت کے اس منصوبے میں سنگین غفلت اور تباہی کے باوجود مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے اب تک ذمہ دار کمپنی کے خلاف کوئی قانونی یا انضباطی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔