پیپلز پارٹی اتحاد سے الگ ہوئی تو کیا شہباز حکومت گر جائے گی؟ پارلیمانی اعداد و شمار سامنے آگئے

کراچی: پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اختلافات میں شدت آ گئی ہے، تاہم پارلیمانی اعداد و شمار کے مطابق اگر پیپلز پارٹی حکومتی اتحاد سے الگ بھی ہو جائے تو وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت فوری طور پر ختم نہیں ہوگی۔

قومی اسمبلی میں حکومت کے پاس اس وقت 244 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جن میں ن لیگ کی 132 اور پیپلز پارٹی کی 74 نشستیں شامل ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی اتحاد سے علیحدہ ہو جاتی ہے تو حکومتی اتحاد کی تعداد 170 رہ جائے گی، جو 169 کی سادہ اکثریت سے ایک نشست زیادہ ہے۔ اس لیے حکومت فوری طور پر اپنی اکثریت نہیں کھوئے گی۔

دوسری جانب سینیٹ میں حکومتی اتحاد کے پاس 64 نشستیں ہیں، جن میں پیپلز پارٹی کی 26 اور ن لیگ کی 20 نشستیں شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی کی علیحدگی سے حکومت ایوان بالا میں بھی اپنی مضبوط پوزیشن سے محروم ہو سکتی ہے، جس سے قانون سازی اور آئینی ترامیم کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی حکومت کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہے، تاہم موجودہ پارلیمانی صورتحال میں حکومت فوری طور پر گرنے کا امکان نہیں