مراد میمن گوٹھ کے تعلیمی منصوبوں میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیاں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم

کراچی کے علاقے مراد میمن گوٹھ میں جاری دو بڑے تعلیمی منصوبوں میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آنے کے بعد سیکریٹری کالجز سندھ ندیم الرحمان میمن نے فوری کارروائی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔سیکریٹری کالجز سندھ نے متعلقہ افسران اور دونوں ٹھیکیدار کمپنیوں کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کرنے، منصوبوں کے مالی و انتظامی ریکارڈ کی مکمل جانچ کرنے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ٹھیکیدار کمپنیوں کو بلیک لسٹ کرنے اور ان کی جمع کرائی گئی سیکیورٹی رقم ضبط کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔اجلاس کے دوران انکشاف کیا گیا کہ سابق ایگزیکٹیو انجینئر نے قواعد و ضوابط کے برعکس ٹھیکیداروں کو پیشگی ادائیگیاں کیں، جس سے منصوبوں میں مالی بے ضابطگیوں کے خدشات مزید مضبوط ہوئے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ گورنمنٹ گرلز کالج مراد میمن گوٹھ منصوبے کی مجموعی لاگت 9 کروڑ 55 لاکھ 83 ہزار روپے مقرر کی گئی تھی، جس میں سے 8 کروڑ 84 لاکھ 21 ہزار روپے پہلے ہی خرچ کیے جا چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود منصوبے کا صرف 60 فیصد کام مکمل ہوا۔ حکام کے مطابق 5 کروڑ 75 لاکھ 5 ہزار روپے مالیت کا کام مکمل کیا گیا، جبکہ 3 کروڑ 9 لاکھ 16 ہزار روپے مالیت کا کام ابھی تک باقی ہے۔ سیکریٹری کالجز نے معاملے کی شفاف تحقیقات مکمل کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔