سندھ ہائیکورٹ میں حکومتِ سندھ کے زیرِ انتظام کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مبینہ طور پر استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال سے بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کے سنگین معاملے کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے مطابق اس مبینہ غفلت کے باعث 9 بچے جاں بحق جبکہ سیکڑوں متاثر ہو چکے ہیں۔سماعت کے دوران متاثرہ بچوں اور ان کے اہلِ خانہ کی بڑی تعداد عدالت میں موجود تھی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسپتال انتظامیہ اور محکمہ صحت کی مبینہ لاپرواہی کے باعث بچوں میں ایچ آئی وی پھیلا، جبکہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں کی گئی اور انکوائری رپورٹ بھی منظرِ عام پر نہیں لائی گئی۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ جاں بحق بچوں کے مقدمات درج نہیں کیے جا رہے، جبکہ بین الاقوامی ادارے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔عدالت نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومتِ سندھ اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں تفصیلی جواب طلب کر لیا، جبکہ کیس کی مزید سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی۔