فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر ناصر خان نے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت ایک ماہرِ معیشت وزیر خزانہ کی ضرورت ہے جو بینکوں کے کارٹل کو توڑ سکے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بینکوں کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں ٹیکس نیٹ میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق بینک مناسب جانچ پڑتال اور دستاویزات کے بغیر اکاؤنٹس کھول رہے ہیں، جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ناصر خان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ان افراد کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرے تو ہر سال 4 سے 6 ہزار ارب روپے کے اضافی قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو گزشتہ 20 برسوں سے ٹیکس نیٹ بڑھانے میں ناکام رہا ہے، جبکہ گزشتہ دو دہائیوں میں نجی شعبے کے خلاف ایف بی آر کے 99 فیصد مقدمات ٹربیونلز اور اعلیٰ عدالتوں میں بے بنیاد ثابت ہوئے۔ان کے مطابق حکومت کو سود کی مد میں تقریباً 8 ہزار ارب روپے ادا کرنے ہیں جبکہ مزید 6 ہزار ارب روپے قرض لیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ سال سود کی ادائیگیاں 9 ہزار ارب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔