امریکا اور ایران مذاکرات کے لیے تیار، مگر براہِ راست ملاقات پر اختلاف برقرار

امریکا اور ایران ایک دوسرے پر حملے روکنے پر اتفاق کے بعد اب مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہیں، تاہم دونوں ممالک کے بیانات میں ملاقات کی نوعیت پر واضح اختلاف پایا جا رہا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ایران کے ساتھ ہونے والے ان تکنیکی مذاکرات میں امریکا کی نمائندگی اسٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر کریں گے، جبکہ دونوں ممالک کے تکنیکی وفود بدھ کے روز علیحدہ علیحدہ بات چیت کریں گے۔ اس پورے عمل میں قطر اور پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آج دوحہ میں ایرانی وفد سے مذاکرات ہوں گے، اور یہ کہ ایران نے خود اس ملاقات کی درخواست کی ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی براہِ راست ملاقات کی سختی سے تردید کی ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق امریکا کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا کوئی منصوبہ نہیں، اور تمام سفارتی رابطے صرف ثالث ممالک کے ذریعے جاری ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ قطر کے ساتھ معمول کی مشاورت جاری ہے، جبکہ مذاکرات کی تاریخ اور مقام طے ہونے کے بعد تکنیکی سطح پر بات چیت مناسب وقت پر ہوگی۔اسی دوران سابق امریکی سفیر برائے عمان رچرڈ شرمر نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی میں پاکستان نے اہم ثالثی کردار ادا کیا ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں روکنے میں بھی اس کا کلیدی اثر رہا ہے۔